وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اقدامات رواں مالی سال بھی جاری رہیں گے کیونکہ حکومت سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھنا چاہتی ہے۔ وفاقی کابینہ نے ان اقدامات کی منظوری دے دی ہے جبکہ کابینہ ڈویژن نے فیصلہ وزارت خزانہ کو عمل درآمد کے لیے بھجوا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے سے نافذ کفایت شعاری پالیسی کو برقرار رکھے گی۔ وزارت خزانہ آئندہ چند روز میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی جس میں تمام وفاقی اداروں کے لیے نئی ہدایات شامل ہوں گی۔
منظور شدہ فیصلے کے تحت گزشتہ تین برس سے خالی تمام سرکاری آسامیاں ختم کر دی جائیں گی۔ اس کے ساتھ نئی آسامیوں کی تخلیق پر عائد پابندی بھی برقرار رہے گی تاکہ انتظامی اخراجات میں مزید کمی لائی جا سکے اور سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت نے سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح نئی مشینری اور آلات کی خریداری پر بھی پابندی جاری رہے گی، تاکہ غیر ضروری اخراجات کو مزید محدود کیا جا سکے۔
سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج کی اجازت بھی بدستور معطل رہے گی۔ اس کے علاوہ غیر ضروری سرکاری بیرونی دوروں پر پابندی برقرار رکھی جائے گی تاکہ قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے اور وسائل ترجیحی شعبوں پر خرچ کیے جا سکیں۔
حکومت گزشتہ چند برسوں سے مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے مختلف اصلاحات پر عمل کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اقدامات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کا مقصد سرکاری اخراجات میں کمی اور مالی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
کابینہ ڈویژن وفاقی کابینہ کا فیصلہ پہلے ہی وزارت خزانہ کو ارسال کر چکا ہے۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد تمام وفاقی وزارتیں اور ادارے رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔