فرانس میں جنگلاتی آگ نے رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 40 ہزار ہیکٹر جنگلات اور قدرتی نباتات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ مسلسل گرمی اور خشک موسم کے باعث ملک کو حالیہ برسوں کے شدید ترین جنگلاتی آگ کے بحران کا سامنا ہے۔
پیر کو فرانس انٹر ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے لوراں نونیز نے کہا کہ سال 2026 کے آغاز سے اب تک جلنے والا رقبہ گزشتہ پورے سال کے مجموعی نقصان سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہیں، جسے غیر معمولی جنگلاتی آگ کا سال قرار دیا جاتا ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق مختلف آتشزدگی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں 111 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے بڑی تعداد نے آگ لگانے کا اعتراف بھی کیا، جبکہ تقریباً دس میں سے نو واقعات انسانی سرگرمیوں، خواہ جان بوجھ کر ہوں یا غیر ارادی، کے باعث پیش آئے۔
سینکڑوں فائر فائٹرز پیر کو بھی مختلف علاقوں میں آگ بجھانے میں مصروف رہے، خاص طور پر جنوبی علاقے وار اور جزیرہ کورسیکا میں امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث مزید آگ لگنے کے خدشات برقرار ہیں۔
لوراں نونیز نے خبردار کیا کہ جنوب مشرقی اور جنوب مغربی فرانس میں آئندہ چند روز تک جنگلاتی آگ کا خطرہ بلند رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملک کے پاس ضروری وسائل اور افرادی قوت دستیاب ہے۔
فرانس کے فضائی فائر فائٹنگ بیڑے میں تقریباً 70 طیارے شامل ہیں، جن میں 12 کینیڈائر واٹر بمبار، ڈیش طیارے، ہیلی کاپٹر اور دیگر خصوصی طیارے شامل ہیں۔ حکومت نے مزید چار کینیڈائر طیاروں کا آرڈر بھی دیا ہے جن کی فراہمی 2028 اور 2032 میں متوقع ہے۔
فرانس میں جنگلاتی آگ موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور طویل خشک سالی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نمایاں کر رہی ہے۔ اسی دوران موسمیاتی ادارے میٹیو فرانس نے ملک کے 27 محکموں میں جنگلاتی آگ کے شدید خطرے کا انتباہ جاری کیا ہے۔