صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایران پر امریکی حملے حالیہ دنوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اعزاز میں کیے گئے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے مسلسل نویں رات ایران میں مختلف فوجی اہداف پر نئی کارروائیاں کیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق تازہ حملوں میں ایران کے فوجی مراکز اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی ایرانی صلاحیت کو مزید محدود کرنا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں ایران کو "بہت سخت” نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ حملے ان تین امریکی فوجیوں کی یاد میں کیے گئے جو حالیہ حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پینٹاگون کے مطابق دو فوجی اردن میں ایک فوجی اڈے پر حملے میں جبکہ ایک فوجی عراق میں ایرانی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام میں ایک "اچانک حملہ” کیا اور اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی طیاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ دوسری جانب کویت کی مسلح افواج نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسی دوران پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد رک گئے، تاہم امریکی سینٹ کام نے اس دعوے کی تردید کی۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ جب تک امریکی حملے جاری رہیں گے، آبنائے ہرمز تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔ اس بیان نے عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی جہاز رانی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ٹرمپ ایران پر امریکی حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے، تاہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔