اوڈیسا کے قریب روسی حملہ ایک کارگو جہاز پر ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہو گئی ہے۔ یوکرین کی بندرگاہ اتھارٹی کے مطابق یہ حملہ اتوار کی شب بحیرہ اسود میں یوکرین کی جنوبی بندرگاہ اوڈیسا کے قریب پیش آیا۔
حکام کے مطابق گنی بساؤ کے پرچم بردار کارگو جہاز میں مکئی کی کھیپ لدی ہوئی تھی۔ جہاز کے عملے میں بھارت اور شام سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے جو حملے کے وقت جہاز پر موجود تھے۔
یوکرین کی سی پورٹس اتھارٹی نے پیر کو بتایا کہ حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے۔ ریسکیو کارروائیوں کے دوران آٹھ عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ متاثرہ جہاز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے باعث بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ فوجی کارروائیوں نے خطے میں سمندری تجارت اور نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے۔
یوکرین پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ بندرگاہوں اور تجارتی جہازوں پر حملے عالمی غذائی رسد کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ملک دنیا کے اہم اناج برآمد کنندگان میں شامل ہے اور بحیرہ اسود کی بندرگاہیں عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
حالیہ واقعہ روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، جنہوں نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور نقل و حمل کے نظام کو متاثر کیا ہے۔ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اوڈیسا کے قریب روسی حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بحیرہ اسود میں شہری اور تجارتی جہاز اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ عالمی برادری خطے کی سیکیورٹی اور عالمی سپلائی چین پر اس تنازع کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔