امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران سفارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، بشرطیکہ تہران دہشت گردی کی حمایت ختم کرے اور مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کر دے۔ انہوں نے یہ بات فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
روبیو نے کہا کہ اگر مناسب شرائط پر اتفاق ممکن ہو تو واشنگٹن مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنے کو ترجیح دے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایران کو بنیادی امریکی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا، "اگر ممکن ہو تو ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا پسند کریں گے۔” ان کے مطابق ایران کو دہشت گردی کی حمایت ختم کرنا ہوگی اور نہ صرف جوہری ہتھیار بلکہ انہیں تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش بھی ترک کرنا ہوگی۔
روبیو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اپنی سلامتی سے متعلق خدشات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے پر مؤثر نگرانی اور عمل درآمد ضروری ہوگا۔
امریکا اور ایران کے تعلقات کئی برسوں سے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر کشیدہ ہیں۔ مختلف ادوار میں مذاکرات ہوئے، لیکن اہم اختلافات کے باعث کوئی مستقل معاہدہ نہیں ہو سکا۔
حالیہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سفارت کاری کا راستہ اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ تاہم امریکا بدستور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے۔
بین الاقوامی برادری امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ہر سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکا ایران سفارتی معاہدہ مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے امن، علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔