نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ شہر کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے وارنٹ کے تحت گرفتار کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ ممدانی نیتن یاہو آئی سی سی وارنٹ سے متعلق یہ بیان ان کے پہلے انتخابی وعدے سے مختلف مؤقف کی نشاندہی کرتا ہے۔
ممدانی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس بات کا قانونی جائزہ لیا کہ آیا نیویارک سٹی آئی سی سی کے گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کر سکتی ہے یا نہیں۔ جائزے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ شہر کے پاس ایسا کرنے کا آزاد قانونی اختیار موجود نہیں۔
تاہم انہوں نے امریکی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر نیتن یاہو امریکا کا دورہ کریں تو واشنگٹن آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل درآمد کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس اس معاملے میں ضروری قانونی اختیارات موجود ہیں۔
ممدانی نے ایک بار پھر نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں جنگی مجرم قرار دیا اور کہا کہ وہ نیویارک سٹی میں خوش آمدید نہیں ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت غزہ جنگ کے حوالے سے تمام جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
Benjamin Netanyahu is a war criminal. pic.twitter.com/YRezmW6YVx
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) July 22, 2026
آئی سی سی نے 2024 میں نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ اس کے پاس ان الزامات کی معقول بنیادیں موجود ہیں، جبکہ اسرائیل ان دعوؤں کو رد کرتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل روم اسٹیٹوٹ کے رکن نہیں ہیں، اس لیے امریکا میں آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ امریکی قوانین بھی آئی سی سی کے ساتھ تعاون پر مختلف پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے ممدانی کے بیان کو اہمیت دینے سے انکار کیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ یوں نیتن یاہو کے متوقع اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت سے قبل یہ معاملہ مزید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔