غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیفری ایپسٹین سے منسوب ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ خط کو منظرِ عام پر لانے والے صحافیوں کے لیے ایک ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اعلان وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے سالانہ ڈنر کے دوران کیا گیا، جس میں صدر ٹرمپ بھی شریک تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایوارڈ ان صحافیوں کی تحقیقی رپورٹنگ کے اعتراف میں دیا گیا جنہوں نے مبینہ خط سے متعلق معلومات شائع کیں۔ اس اعلان نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے صحافیوں پر طنزیہ جملے بھی کہے، جو تقریب کے روایتی مزاحیہ ماحول کا حصہ سمجھے گئے۔ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی ماضی میں بھی کئی مواقع پر سامنے آ چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق زیرِ بحث خط مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر لکھا گیا تھا، اور اس کے مندرجات کو فحش قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر مختلف دعوے اور جوابی مؤقف سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ اس سے متعلق متعدد پہلو سیاسی اور قانونی بحث کا حصہ ہیں۔
جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات اور ان کے سابق روابط پر ہونے والی تحقیقات اب بھی امریکی میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں اس مبینہ خط کی اشاعت کو بھی نمایاں کوریج ملی۔
ایوارڈ کے اعلان پر مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ افراد نے اسے تحقیقاتی صحافت کی کامیابی قرار دیا، جبکہ دیگر نے اس فیصلے پر سوالات اٹھائے۔ اس معاملے پر بحث کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔