خیبر پختونخوا میں 9 رکنی کوہ پیما ٹیم نے کامیابی کے ساتھ تھلو زوم چوٹی سر کرلی، جو ہندوکش پہاڑی سلسلے کی مشکل ترین اور کم سر کی جانے والی چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کامیابی نے پاکستان میں کوہ پیمائی اور ایڈونچر ٹورازم کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قائم کیا ہے۔
خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے مطابق تھلو زوم چوٹی سطح سمندر سے 6050 میٹر بلند ہے اور اس کا دشوار گزار راستہ کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جاتا ہے۔ ٹیم نے سخت موسمی حالات، برفانی راستوں اور خطرناک پہاڑی علاقوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی۔
ٹورازم اتھارٹی کے مطابق 8 روزہ مہم کا آغاز 9 جولائی کو کیا گیا، جبکہ کوہ پیما ٹیم نے 17 جولائی کو چوٹی پر پہنچ کر قومی پرچم لہرایا۔ اس مہم کے دوران کوہ پیماؤں نے کمراٹ اور چترال کے مشکل راستوں، گلیشیئرز اور برفانی دراڑوں کو عبور کیا۔
حکام کے مطابق تھلو زوم چوٹی پر چڑھائی کے لیے بہترین مہارت، جسمانی فٹنس اور جدید کوہ پیمائی تکنیکوں کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس علاقے کا جغرافیہ انتہائی پیچیدہ اور موسمی حالات غیر یقینی رہتے ہیں۔
خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی نے بتایا کہ تھلو زوم چوٹی پہلی مرتبہ 1971 میں آسٹریلوی کوہ پیماؤں نے سر کی تھی، جبکہ 2019 میں اطالوی کوہ پیماؤں نے بھی اس چوٹی کو کامیابی سے عبور کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی مہمات خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ صوبے کے بلند پہاڑ، گلیشیئرز اور قدرتی مناظر عالمی کوہ پیماؤں کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔