نفتالی بینیٹ قطر سے متعلق اپنے تازہ بیان کے باعث ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو قطر کو فوری طور پر دشمن ریاست قرار دیں گے۔ انہوں نے قطر پر کئی سنگین الزامات بھی عائد کیے، جنہیں انہوں نے اپنے مؤقف کے طور پر پیش کیا۔
تل ابیب میں گفتگو کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا کہ اپنے دورِ حکومت کے دوران انہیں بتایا گیا تھا کہ قطر ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور حماس کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے عوامی بیان میں ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
بینیٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ قطر نے امریکی جامعات میں نوجوانوں پر اثرانداز ہونے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں ایسے نظریات اور نعرے فروغ پا رہے ہیں جنہیں وہ اسرائیل مخالف قرار دیتے ہیں۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی الزام لگایا کہ قطر کا اثر و رسوخ مغربی ممالک سمیت اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر تک پھیل چکا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد اسرائیل کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئے تو ان کے ابتدائی فیصلوں میں قطر کو باضابطہ طور پر دشمن ریاست قرار دینا شامل ہوگا۔ یہ بیان ان کی مجوزہ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
نفتالی بینیٹ ماضی میں بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کا حصہ رہے اور ان کے چیف آف اسٹاف بھی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے الگ سیاسی راستہ اختیار کیا اور 2021 سے 2022 تک اسرائیل کے وزیراعظم رہے۔
دوسری جانب قطر ماضی میں دہشت گردی کی معاونت سے متعلق الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کی سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کا مقصد علاقائی استحکام اور انسانی بنیادوں پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ بینیٹ کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر جاری بحث کو مزید تقویت دی ہے۔