بھارتی سپریم کورٹ مظاہرین کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت عظمیٰ نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائی سے روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے گرفتار نابالغ مظاہرین کی رہائی کا بھی حکم دیا۔
چیف جسٹس سوریا کانت نے طلبہ مظاہرین اور کارکنوں کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران عبوری احکامات جاری کیے۔ درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا تھا کہ نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔
عدالت نے حکام کو احتجاج سے متعلق تمام شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت کی، جن میں سی سی ٹی وی ریکارڈنگ، ڈرون فوٹیج اور باڈی کیم ویڈیوز شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے مظاہرین کے ذاتی اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے بھی روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ اگر کسی شخص نے معصوم شہریوں کے خلاف زیادتی کی ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے اس معاملے میں آزاد اور شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
بھارتی حکومت نے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے قانونی طریقہ کار کے مطابق قرار دیا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ طلبہ سے متعلق الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم احتجاج کے دوران تقریباً 250 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
یہ احتجاج قومی میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے الزامات کے بعد شروع ہوا تھا۔ مظاہرے اس وقت ختم ہوئے جب وزیر تعلیم نے استعفیٰ دیا اور حکومت نے امتحانی اصلاحات، مقدمات واپس لینے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے اقدامات سمیت کئی مطالبات تسلیم کیے۔
اس معاملے نے بھارت میں احتجاج کے حق، پولیس کے کردار اور عوامی اجتماعات کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بحث کو جنم دیا ہے۔ مظاہروں کے دوران مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نگرانی نظام کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جبکہ قانونی کارروائی مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔