امریکا ایران کشیدگی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں کمی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے، تاہم خام تیل کی مسلسل ترسیل نے سپلائی کے خدشات کو وقتی طور پر کم کر دیا، جس کے باعث قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر کمی کے بعد 89.45 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 56 سینٹ یا 0.66 فیصد کمی کے ساتھ 83.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اہم بحری راستوں سے تیل بردار جہازوں کی روانی معمول کے مطابق جاری ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں سپلائی متاثر نہیں ہوئی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری سیشن میں جنگی خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس دوران برینٹ خام تیل تقریباً 7.91 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 6.56 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔
اس سے پہلے ہفتے کے آغاز میں مختصر جنگ بندی یا کشیدگی میں عارضی کمی کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ سیاسی حالات سے فوری طور پر متاثر ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، سفارتی پیش رفت اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔