امریکہ ایران کشیدگی سے تیل قیمتوں میں اضافہ

امریکا ایران کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا

امریکہ ایران کشیدگی سے تیل قیمتوں میں اضافہ بدھ کو عالمی مارکیٹ میں نمایاں رہا، جہاں عراق میں ہونے والی کارروائیوں اور میزائل حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں 3 ڈالر فی بیرل سے زیادہ بڑھ گئیں۔ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ سپلائی خطرات پر تشویش ظاہر کی۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں میں 3.30 ڈالر یا 3.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 87.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 3.05 ڈالر یا 3.8 فیصد اضافے سے 82.31 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں کیے گئے مشترکہ حملوں اور ایران سے متعلق میزائل سرگرمیوں کے بعد ہوا۔ ماہرین کے مطابق ان واقعات نے خلیجی خطے میں فوری کشیدگی کم ہونے کی توقعات کو متاثر کیا ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ امریکی فوج پر مبینہ اچانک حملے کو روکنے کے دعوے کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی۔ سعودی عرب نے بھی ایران نواز گروہوں کی جانب سے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرونز روکنے کا اعلان کیا۔

امریکی فوج کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل روکے گئے۔ بعد ازاں ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی اڈے اور فوجی کمان مرکز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر تقریباً 3.3 ملین بیرل کم ہوئے۔

ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافے کو کچھ عرصے کے لیے روکنے کا امکان بھی عالمی تیل مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین