وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موجودہ انتظامی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بچوں کے گٹر میں گرنے سے اموات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے عوامی تحفظ کو اہم قرار دیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق ہر سال صوبوں میں 8 ہزار 884 ارب روپے تقسیم کرتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ نظام میں یہ رقم یونین کونسلز تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کئی ممالک سے رقبے میں بڑے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ 165 ممالک جبکہ بلوچستان 180 ممالک سے بڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی جب تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ تھی، تب بھی چار صوبے تھے۔ آج ملک کی آبادی تقریباً 26 کروڑ 50 لاکھ ہوچکی ہے، مگر صوبوں کی تعداد وہی ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان میں نئے صوبے بننے سے ملک کمزور نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط انتظامی یونٹس سے حکمرانی بہتر ہوسکتی ہے اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے موجودہ انتظامی مسائل پر مل بیٹھ کر بات کرنے کا مطالبہ کیا۔ مصطفیٰ کمال نے آئینی طریقے سے مسائل کا حل تلاش کرنے اور نظام مضبوط بنانے پر زور دیا۔