ٹرمپ کے طیارے کو میزائل حملے کا خطرہ

نیٹو اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ کے طیارے کو میزائل حملے کا خطرہ تھا: امریکی اخبار

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ میں نیٹو اجلاس سے واپسی کے دوران ٹرمپ کے طیارے کو میزائل حملے کا خطرہ درپیش تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کو متعدد ذرائع سے ممکنہ حملے کے بارے میں معلومات موصول ہوئی تھیں۔ خدشہ تھا کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے طیارے کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی ٹرمپ کے طیارے کو میزائل حملے کا خطرہ کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے تھے۔ تاہم حملے کی کوئی یقینی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

امریکی حکام کے مطابق نیٹو اجلاس کے قریب ایک شخص کو کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائل کے ساتھ بھی دیکھا گیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مذکورہ شخص کسی حملے کی تیاری میں ملوث تھا یا نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایران کو انقرہ میں ٹرمپ کی موجودگی کے مقام، عمارت اور منزل کا علم تھا۔ ممکنہ ایرانی حملے کے خدشے پر امریکی صدر کو خفیہ طور پر فوجی طیارے کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے بھی امریکی انتظامیہ کو ممکنہ ایرانی حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں۔ اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ ایئر فورس ون کو شولڈر فائر میزائل سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طیارے پر کوئی میزائل فائر نہیں ہوا۔ تاہم انٹیلی جنس اطلاعات کی صداقت اور ممکنہ خطرے کی نوعیت واضح نہیں ہے، جس سے ٹرمپ کے طیارے کو میزائل حملے کا خطرہ سے متعلق دعوے پر سوالات برقرار ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین