خسرہ کیسز

سندھ میں خسرہ، خناق اور تشنج سے بچوں کی ہلاکتیں، 8 ماہ کی تشویشناک رپورٹ

کراچی: سندھ میں رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران خسرہ، خناق اور تشنج کے باعث بچوں کی ہلاکتوں کی تشویشناک رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ محکمہ صحت سندھ اور عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 4 جنوری سے 8 اگست 2026 تک مختلف اضلاع میں ان بیماریوں کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران خسرہ کے 3 ہزار 123 مصدقہ کیسز سامنے آئے، جبکہ خسرہ کے باعث 63 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں۔ اسی مدت میں خناق کے 57 مصدقہ کیسز میں 20 بچوں کی ہلاکت ہوئی، جبکہ تشنج کے 20 کیسز میں 5 بچے جان کی بازی ہار گئے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں خسرہ کے 8 ہزار 32 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3 ہزار 123 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ صوبے کے 15 اضلاع میں خسرہ کے 53 آؤٹ بریکس کی بھی تصدیق کی گئی، جس سے بچوں میں ویکسین سے قابلِ تدارک بیماریوں کے پھیلاؤ پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

بچوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے خیرپور سرفہرست رہا، جبکہ دادو اور لاڑکانہ دوسرے نمبر پر رہے۔ کراچی ایسٹ، سکھر اور ٹھٹھہ تیسرے، بدین اور شکارپور چوتھے جبکہ مٹیاری پانچویں نمبر پر رہا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خسرہ کے مصدقہ کیسز میں 55 فیصد بچوں کو 9 ماہ یا اس سے زائد عمر ہونے کے باوجود خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں ملی تھی۔ سندھ کا Expanded Programme on Immunization (EPI) بچوں کو خسرہ سمیت متعدد قابلِ تدارک بیماریوں کے خلاف ویکسین فراہم کرتا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر خسرہ ویکسینیشن مہم کے حوالے سے کیے جانے والے 100 فیصد کارکردگی کے دعوؤں کی آزادانہ جانچ کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین