ڈی آر کانگو ایبولا وبا

ڈی آر کانگو میں ایبولا کے کیسز 1,800 سے تجاوز، وائرس چوتے صوبے تک پہنچ گیا

ڈی آر کانگو ایبولا وبا مزید سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے، جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1,800 سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ وائرس اب ملک کے شمال مشرق میں واقع چوتھے صوبے تک بھی پھیل چکا ہے، جس کے بعد نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

جمہوریہ کانگو کی وزارت صحت کے مطابق 15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد اب تک ایبولا کے 1,830 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ اس دوران 648 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 780 مریض زیر علاج ہیں اور 284 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ اب تک وبا زیادہ تر ایتوری، نارتھ کیوو اور ساؤتھ کیوو صوبوں تک محدود تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں شمال مشرقی صوبے ہاؤٹ یوئیلے کے وامبا ہیلتھ زون میں سات اموات کی تصدیق کے بعد وائرس کے وہاں بھی پھیلنے کا اعلان کیا گیا۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ وبائی نگرانی، مریضوں کی بروقت نشاندہی اور مقامی آبادی میں آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور شراکت دار اداروں نے کانگو اور پڑوسی ملک یوگنڈا میں ایبولا سے نمٹنے کے لیے مجموعی طور پر 910 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یوگنڈا میں بھی اب تک 20 ایبولا کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں تاکہ زیادہ متاثرہ ہیلتھ زونز میں فوری طبی امداد، نگرانی اور وبا پر قابو پانے کے اقدامات مؤثر انداز میں جاری رکھے جا سکیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کاسیہ نے کہا کہ ہر لمحہ قیمتی ہے اور تاخیر مزید جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈی آر کانگو ایبولا وبا کو عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے مئی میں عالمی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں، عالمی اداروں اور مقامی کمیونٹیز کے مشترکہ اقدامات ہی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور مزید جانی نقصان سے بچانے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین