آبنائے ہرمز اتحاد کے لیے امریکہ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد اہم بحری راستوں میں آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ کے مطابق یہ کوشش بین الاقوامی سطح پر ایک مشترکہ اتحاد بنانے کے لیے کی جا رہی ہے تاکہ بحری راستوں میں آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس منصوبے کی منظوری امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے دی ہے۔ اس کا مقصد سفارتی اور عسکری تعاون کے ذریعے سمندری راستوں کی حفاظت کو مضبوط بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز اتحاد کے تحت ممالک سفارت کاری، معلومات کے تبادلے، پابندیوں کے نفاذ یا بحری مدد کے ذریعے حصہ لے سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں ممالک پر اضافی فوجی وسائل بھیجنے کی لازمی شرط نہیں رکھی گئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ تاہم حالیہ تنازعات کی وجہ سے اس راستے میں ٹریفک نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب فوجی کارروائیوں کے بعد بحری راستوں میں خلل پڑا اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ امریکہ نے اس صورتحال کے بعد ایران پر دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نیا اتحاد دیگر امریکی پالیسیوں سے الگ ہے اور اس کا مقصد طویل مدتی بحری سلامتی کا نظام قائم کرنا ہے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل محفوظ رہے۔