آبنائے ہرمز

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چار جہاز روک دیے

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ان کی بحریہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو روک دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وارننگ فائرنگ کے بعد جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے ایک ایسے راستے پر سفر کر رہے تھے جسے ایرانی حکام نے غیر قانونی اور غیر محفوظ قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتباہ ملنے کے بعد تمام جہازوں نے اپنا رخ موڑ لیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیش آنے والا ہر واقعہ بین الاقوامی توجہ حاصل کرتا ہے۔

ایران نے حالیہ ہفتوں میں اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے ان ٹینکروں کے خلاف کارروائیاں کیں جو عمان کے ساحل کے قریب متبادل راستہ استعمال کر رہے تھے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا اور قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ تاہم بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ بحری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل اور علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی جہاز رانی، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے مستقبل کی پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین