آبنائے ہرمز تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو “آبنائے ٹرمپ” کہنے پر سخت ردعمل دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس بیان کو غلط اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پرانی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ آبنائے ہرمز کو غلط نام سے پکارتے ہیں اور بعد میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تنازع میں غلط نام استعمال کرنا نہ صرف حقائق کے خلاف ہے بلکہ خطے میں غیر ضروری کشیدگی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے اصل نام کو تبدیل کرنے کی کوششیں تاریخی حقائق کی توہین ہیں اور اس سے سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
Today is Persian Gulf Day in Iran, marking our ancestors’ expulsion of Portuguese from Strait of Hormuz 400 years ago.
POTUS uses the correct term “Persian Gulf”, not the Pentagon’s fake version. But calling Hormuz anything else is indeed a "terrible mistake”. pic.twitter.com/KcGwj83W2B
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 30, 2026
آبنائے ہرمز تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کیا جس میں اس آبی گزرگاہ کو “آبنائے ٹرمپ” لکھا گیا تھا۔
ایران کے مطابق ایسے بیانات خطے کی حساس صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز تنازع جیسے واقعات علامتی سیاست کو ظاہر کرتے ہیں جو امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں مزید دراڑ ڈال سکتے ہیں۔