آبنائے ہرمز تنازع

آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ کہنے پر ایران کا سخت ردعمل

آبنائے ہرمز تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو “آبنائے ٹرمپ” کہنے پر سخت ردعمل دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس بیان کو غلط اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پرانی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ آبنائے ہرمز کو غلط نام سے پکارتے ہیں اور بعد میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تنازع میں غلط نام استعمال کرنا نہ صرف حقائق کے خلاف ہے بلکہ خطے میں غیر ضروری کشیدگی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے اصل نام کو تبدیل کرنے کی کوششیں تاریخی حقائق کی توہین ہیں اور اس سے سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کیا جس میں اس آبی گزرگاہ کو “آبنائے ٹرمپ” لکھا گیا تھا۔

ایران کے مطابق ایسے بیانات خطے کی حساس صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز تنازع جیسے واقعات علامتی سیاست کو ظاہر کرتے ہیں جو امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں مزید دراڑ ڈال سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین