پاکستان میں 2025 کے دوران صنفی تشدد میں 25٪ اضافہ

پاکستان میں 2025 کے دوران صنفی تشدد میں 25٪ اضافہ

اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ میں ملک میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر صنفی تشدد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران گھریلو تشدد کے نتیجے میں 1,332 خواتین جان سے گئیں، جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے 470 واقعات رپورٹ ہوئے۔ خواتین کے خلاف سائبر ہراسگی کے 2,586 کیسز اور زیادتی کے 3,815 مقدمات بھی سامنے آئے۔

عالمی جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان 148 ممالک میں سے 145ویں نمبر پر رہا، جو صنفی مساوات کے حوالے سے سنگین چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران ملک میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں 3,417 افراد ہلاک اور 2,134 زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر 1,272 واقعات رپورٹ کیے گئے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جہاں 1,155 پولیس مقابلوں میں 1,696 افراد مارے گئے، جن میں پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کے 1,128 مقابلوں میں 977 ہلاکتیں شامل ہیں۔

جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے 171 فیصد زیادہ ہو چکی ہے، جبکہ بیرون ملک 21,600 پاکستانی شہری قید ہیں، جن میں 738 افراد بھارتی جیلوں میں موجود ہیں۔

بچوں کے حوالے سے صورتحال بھی تشویشناک رہی، جہاں 3,600 تشدد کے کیسز، 1,107 اغوا کے واقعات اور 365 بچوں کی گمشدگی رپورٹ ہوئی۔ کم عمری کی شادی کے 53 کیسز اور بچوں سے متعلق فحش مواد کے 52 واقعات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

ٹرانس جینڈر کمیونٹی بھی عدم تحفظ کا شکار رہی، سال 2025 میں 19 افراد قتل اور 2 پر تیزاب گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔

رپورٹ کے مطابق معاشی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا اور مزید لاکھوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین