پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق کپتان نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا ذہن بنا لیا ہے۔
مصباح الحق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے سلیکشن کمیٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم ان کے اس فیصلے کی حتمی وجوہات ابھی سامنے نہیں آسکیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ان کی جانب سے باضابطہ استعفیٰ کب جمع کرایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مصباح الحق نے پی سی بی کو اپنے نوٹس پیریڈ سے آگاہ کردیا ہے۔ امکان ہے کہ وہ نوٹس پیریڈ مکمل ہونے تک بورڈ کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائیں گے، جس کے بعد سلیکشن کمیٹی سے ان کی باضابطہ علیحدگی عمل میں آئے گی۔
مصباح کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو دورہ انگلینڈ کے دوران مسلسل دو میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ قومی ٹیم کی کارکردگی کے بعد پی سی بی کے اندر تبدیلیوں اور ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت جاری ہے۔
مصباح الحق نے دورہ انگلینڈ کے دوران قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا ہے۔ ان کھلاڑیوں میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، عامر جمال، علی عثمان، اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ریلیز کیے جانے کی اطلاع ہے۔ قومی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کے بعد یہ اقدامات پاکستان کے ٹیسٹ سیٹ اپ میں جاری بڑے ردوبدل کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اوپننگ بیٹر امام الحق دوسرے ٹیسٹ میں انجری کے باعث شرکت نہ کرسکے اور وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی انجری کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں اور انہیں پی سی بی کی ممکنہ انکوائری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔