امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کی تیاری شروع کردی ہے، جن میں بینکوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ رواں ہفتے ایک اور بینک پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرسکتی ہے۔ ابتدائی طور پر ان پابندیوں کا مرکز بینک اور مالیاتی ادارے ہوں گے۔
امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ مالی لین دین جاری رکھنے والے اداروں کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے بھی الگ کیا جاسکتا ہے۔ واشنگٹن مالیاتی اداروں سے تہران کے ساتھ اقتصادی روابط ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
نئی مہم کو آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایران کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی اور آمدنی کے ذرائع محدود کرنا ہے۔ بیسنٹ جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان سے بھی اس معاملے پر بات کریں گے۔
ایران پر مالی دباؤ کے ساتھ امریکا اور تہران کے درمیان فوجی کشیدگی بھی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ امریکی فورسز نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایران کے لراک جزیرے پر راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ ایران نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
چین نئی ایران پر پابندیوں کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے کیونکہ وہ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی تیل خریدنے والے اداروں کے خلاف بھی کارروائی کے تمام راستے کھلے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی مصر کے بڑے بینک بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی تجویز دے چکا ہے۔ واشنگٹن ایرانی تیل کی ترسیل پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور مزید اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ نئی ایران پر پابندیاں تہران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر مزید معاشی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔