پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری بے چینی کشمیر کاز اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے اور بعض بیرونی قوتیں داخلی کشیدگی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال خطے کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
بلاول بھٹو نے احتجاج کرنے والے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ پرامن طریقے سے احتجاج ختم کریں اور تمام سیاسی مسائل کا حل جمہوری، آئینی اور پرامن راستوں سے نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی الیکشن کمیشن سے قبل از وقت انتخابی شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہے تاکہ سیاسی عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے یہ بھی کہا کہ زیر التوا شکایات کے ازالے کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فریق متفق ہوں تو آزاد کشمیر حکومت احتجاج کرنے والی جماعتوں سے متعلق نوٹیفکیشنز پر نظرثانی کر سکتی ہے تاکہ بے قصور افراد کو نقصان نہ پہنچے۔
بلاول بھٹو نے ایران امریکا معاہدے کے تناظر میں کہا کہ “اسلام آباد معاہدہ” کا قریب آنا ایک تاریخی پیش رفت ہے اور پاکستان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔
مجموعی طور پر بلاول بھٹو آزاد کشمیر کا بیان خطے میں امن اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔