برینٹ خام تیل

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید حملوں کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال نے توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو نمایاں کردیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ تیل کی مارکیٹ پر مرکوز ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 1.29 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 110.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس اضافے نے عالمی توانائی مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی صورتحال کے اثرات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا۔

امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے مستقبل کے سودے 97 سینٹ، یعنی ایک فیصد بڑھ کر 98.12 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ دونوں اہم عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں اضافے کو خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

سعودی عرب پر حملوں سے سپلائی کے خدشات

سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ خطہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار اور ترسیل کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں سکیورٹی کی صورتحال میں تبدیلی عالمی منڈی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

تیل کے تاجروں کی توجہ اس بات پر ہے کہ آیا علاقائی کشیدگی پیداوار، ترسیلی راستوں یا عالمی منڈیوں تک تیل کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے۔ تاہم، قیمتوں میں اضافے کو بذات خود سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہونے کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔

گزشتہ کاروباری سیشن میں تیل کی قیمتیں

جمعرات کو اضافے سے قبل بدھ کے کاروباری سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے برعکس امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں 67 سینٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین