پاکستان مالدیپ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے دونوں ممالک نے تجارتی حجم 13 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران کیا گیا۔ مالدیپ کے صدر منگل کو پاکستان پہنچے تھے۔
پاکستان اور مالدیپ نے بدھ کے روز مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر محمد معیزو موجود تھے۔ معاہدوں میں تجارت، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، صحت، تعلیم، زراعت اور سیاحت سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔
صدر محمد معیزو کو وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور مستقبل میں تعاون بڑھانے کے لیے انفرادی اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں کیں۔ مالدیپ کے صدر نے وزیراعظم ہاؤس کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔ یہ 11 سال میں کسی مالدیپی صدر کا پہلا دورۂ پاکستان ہے، جبکہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
معاہدوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، ٹیکنالوجی میں جدت اور سمندری سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ دونوں ممالک نے صحت کی سہولیات، سماجی تحفظ اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ طبی عملے کی بھرتی اور ادویات کی نگرانی کرنے والے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کے معاہدے بھی کیے گئے۔
President of the Maldives H.E. Muhammad Muizzu receives guard of honor at the Prime Minister’s House Islamabad. https://t.co/UNPtaGiFnz
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 21, 2026
معاشی تعاون بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہا۔ پاکستان اور مالدیپ نے زرعی اجناس، ماہی گیری، غذائی مصنوعات اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق معاہدوں پر اتفاق کیا۔ مالدیپ کے اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن اور پاکستان کی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان بھی تجارتی تعاون کے لیے مفاہمت ہوئی۔ ان اقدامات کا مقصد کاروباری مواقع بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مضبوط کرنا ہے۔
تعلیم، فنی تربیت، نوجوانوں کی ترقی اور ثقافتی روابط بھی معاہدوں میں شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے اعلیٰ تعلیم، کھیلوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ سیاحت، فنون، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فضائی رابطوں میں بہتری کے لیے بھی معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صدر معیزو سے ملاقات کی اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور سیاحت میں تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، خصوصاً ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی میں۔ انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت اور تنازعات کے پُرامن حل کے مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔ کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک اب تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے اور 20 مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔