آبنائے ہرمز

بیجنگ نے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کی فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا

چین نے امریکہ اور ایران سے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت جلد بحال کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی بلا تعطل نقل و حرکت عالمی توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں معمول اور محفوظ آمدورفت کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور امن و استحکام کے لیے اپنی مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

چین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ حالیہ کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں، شپنگ اخراجات اور سپلائی چین پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب قطر نے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکروں پر حملے کی شدید مذمت کی۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ تجارتی جہازوں اور بحری سلامتی کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

قطر نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خلیجی ممالک کی سلامتی اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ وزارت خارجہ نے آزادیٔ جہاز رانی کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

چین مسلسل سفارتی حل اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔ تازہ بیان اس بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور مشرق وسطیٰ کے امن پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین