اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ریٹیلرز کے لیے متعارف کرائی گئی آسان ٹیکس اسکیم کو مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ اب تک اس اسکیم کے تحت صرف 1,571 انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے ہیں۔ کم تعداد میں گوشواروں کا جمع ہونا اسکیم کی افادیت اور اس میں ریٹیلرز کی شرکت سے متعلق سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر سے بڑھا کر 31 اکتوبر 2026 مقرر کر دی ہے۔ اس توسیع کا مقصد ٹیکس دہندگان کو اپنے گوشوارے مکمل کرنے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مزید وقت فراہم کرنا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریٹیلرز کے لیے متعارف کرائی گئی آسان ٹیکس اسکیم میں اب تک شرکت محدود رہی ہے۔ اس کے تحت گوشوارے جمع کرانے والوں کی کم تعداد ظاہر کرتی ہے کہ اسکیم ابھی تک اپنے مطلوبہ دائرہ کار میں وسیع پیمانے پر مقبول نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایف بی آر کو اب تک مجموعی طور پر تقریباً 69 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے ہیں۔ ان گوشواروں کے ساتھ 72 ارب روپے ٹیکس بھی ادا کیا گیا ہے، جو موجودہ مالی سال کے دوران موصول ہونے والی ٹیکس ادائیگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تقریباً 52 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے تھے۔ اس طرح رواں سال گوشواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم رپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسی مدت میں ٹیکس کی ادائیگی زیادہ تھی۔
گوشواروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ٹیکس وصولی کی کم رقم اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ ٹیکس نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت گوشواروں اور حاصل ہونے والی آمدن، دونوں کو مدنظر رکھا جائے۔ تاہم، دستیاب اعداد و شمار سے ٹیکس ادائیگیوں میں فرق کی وجوہات کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔
31 اکتوبر کی آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ایف بی آر کے لیے اہم چیلنج زیادہ سے زیادہ ٹیکس دہندگان کو گوشوارے جمع کرانے کی ترغیب دینا اور ریٹیلرز ٹیکس اسکیم میں شرکت بڑھانا ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ تاریخ میں توسیع سے گوشواروں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوتا ہے اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے میں کس حد تک مدد ملتی ہے۔