اسلام آباد: حکومت نے ریٹیلرز کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کو خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد 10 لاکھ نان فائلرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے نان فائلرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا ہوگا، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ریٹیلرز کی جانب سے فکسڈ ٹیکس اسکیم سے مطلوبہ فائدہ نہ اٹھانے کی صورتحال سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 43 لاکھ ریٹیلرز موجود ہیں، تاہم ان میں صرف 6 لاکھ افراد فائلرز ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 37 لاکھ ریٹیلرز اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جس کے باعث حکومت ٹیکس وصولیوں کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ریٹیلرز کے لیے ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی تھی، جسے کاروباری افراد کے لیے نسبتاً سازگار قرار دیا گیا۔ تاہم اسکیم کو توقع کے مطابق پذیرائی نہیں مل سکی اور بڑی تعداد میں ریٹیلرز ٹیکس نظام میں شامل نہیں ہوئے۔
ایف بی آر نے واضح کیا کہ فکسڈ ٹیکس اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے نان فائلرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر تقریباً 10 لاکھ نان فائلرز کو کریک ڈاؤن کے لیے ہدف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس وصولی کے لیے ’گاجر اور چھڑی‘ کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے والوں کے لیے سہولت اور تعاون جبکہ قوانین پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔