ایف بی آر مانیٹرنگ سسٹم

مانیٹرنگ سسٹم نصب نہ کرنے والے کاروبار سیل ہوں گے، ایف بی آر

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایف بی آر مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے رجسٹرڈ کاروباری مراکز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کے بعد کیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت رجسٹرڈ کاروباری مراکز کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل امیجنگ سسٹم نصب کرنا اور اسے ایف بی آر کے مانیٹرنگ نظام سے منسلک کرنا ضروری ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مانیٹرنگ نظام سے منسلک نہ ہونے والے کاروبار کے خلاف سیل کرنے سمیت کارروائی کی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے اسسٹنٹ کمشنر یا اس سے اوپر کا افسر تحریری رپورٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو پیش کرے گا، جس کی بنیاد پر کارروائی شروع کی جا سکے گی۔

کمشنر ان لینڈ ریونیو رپورٹ اور معاملے کی انکوائری کے بعد اپنی رپورٹ چیف کمشنر کو بھیجے گا۔ چیف کمشنر کاروباری مقام کو سیل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق تحریری حکم جاری کرے گا۔ ضرورت کے مطابق پورا کاروباری مقام یا اس کا مخصوص حصہ بھی سیل کیا جا سکے گا۔

کاروباری مقام سیل کرنے سے قبل متعلقہ کاروباری شخص کو حکم کی نقل فراہم کی جائے گی۔ ایف بی آر مانیٹرنگ سسٹم سے کنکشن مکمل ہونے تک سیل برقرار رہے گا۔ کاروبار دوبارہ کھلوانے کے لیے جرمانہ ادا کرنے کے ساتھ مطلوبہ مانیٹرنگ نظام بھی نصب کرنا ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مانیٹرنگ نظام کی تنصیب کے وقت ایف بی آر کی ٹیکنیکل ٹیم موجود ہوگی۔ نظام نصب اور ایف بی آر سے منسلک ہونے کے بعد کمشنر تین دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔

ایف بی آر کے مطابق الیکٹرانک مانیٹرنگ کے قواعد کا دائرہ مستقبل میں مزید کاروباری مراکز اور مینوفیکچررز تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ نئی ترامیم کا مقصد رجسٹرڈ کاروباروں کی ڈیجیٹل نگرانی کو وسعت دینا اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین