کرک کوہاٹ آپریشن میں خیبرپختونخوا پولیس نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران چار مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کرک پولیس کے مطابق خٹک ڈیم کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر کرک اور کوہاٹ پولیس نے مشترکہ آپریشن کیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق کارروائی کا آغاز صبح سویرے کیا گیا، جب سکیورٹی اداروں کو اطلاع ملی کہ مسلح افراد علاقے میں موجود ہیں۔ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دونوں اضلاع کی پولیس نے مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائی شروع کی۔
حکام کے مطابق آپریشن کے دوران مبینہ دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار مبینہ دہشت گرد مارے گئے، جنہیں پولیس نے "کمانڈر زاہد گروپ” سے تعلق رکھنے والا قرار دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروہ پر ماضی میں متعدد پولیس افسران اور اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور ان کے مجرمانہ ریکارڈ کی مزید جانچ کا عمل جاری ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا تاکہ ممکنہ طور پر موجود دیگر مشتبہ افراد کو بھی تلاش کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق علاقے کی مکمل کلیئرنس تک کارروائی جاری رہے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب کارروائی پر پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کو "بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ دعویٰ وزیر داخلہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق گزشتہ سال صوبے میں تشدد کے واقعات اور جانی نقصانات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے خطے میں سکیورٹی چیلنجز کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔