ایران کا امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام

ایران کا امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام

ایران کا امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے حالیہ دوطرفہ مفاہمتی یادداشت کی کئی اہم شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دباؤ اور فوجی کارروائیاں ایران کی پالیسی تبدیل نہیں کر سکتیں۔

پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ مفاہمتی یادداشت 17 جولائی کو دستخط کی گئی تھی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور 60 روزہ مذاکراتی عمل کے ذریعے مستقل حل کی راہ ہموار کرنا تھا۔ معاہدے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ دونوں ممالک نے فوجی کشیدگی کم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے چار اہم معاملات میں معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں ایران کے بحری اقدامات میں مداخلت کی، یکطرفہ تیل پابندیاں دوبارہ نافذ کیں، جنوبی ایران پر فضائی حملے کیے اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو جاری رہنے دیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریب آبادی نے بھی الزام لگایا کہ امریکا گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مفاہمتی یادداشت کی پہلی دو شقوں کی بارہا خلاف ورزی کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جاری فوجی سرگرمیاں اور امریکی بیانات معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔

اسی دوران خلیجی خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ ایرانی صوبہ ہرمزگان کے مختلف علاقوں، خصوصاً سیریک اور جزیرہ قشم کے قریب دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران میں 80 سے زائد اہداف پر فضائی حملوں کی تصدیق کی۔

حملوں کے بعد ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا کہ مسلح افواج امریکی کارروائی کا "سخت اور فیصلہ کن جواب” دیں گی۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا انتظام ایران کی مقررہ پالیسیوں کے مطابق جاری رہے گا۔

تازہ پیش رفت نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر فوجی اور سفارتی تنازع اسی طرح جاری رہا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین