ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ

ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا بیان ہفتے کے روز اس وقت سامنے آیا جب غلام حسین محسنی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران اور ایرانی عوام کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کو قانونی کارروائی کے ذریعے سزا ملنی چاہیے اور انہیں مبینہ نقصانات کا ہرجانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

تہران میں بین الاقوامی وکلا اور قانونی ماہرین کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران غلام حسین محسنی نے کہا کہ ایران ان افراد کے خلاف قانونی مقدمات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے جنہیں وہ ان الزامات کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق انصاف کا تقاضا ہے کہ مجرموں کو سزا کے ساتھ مالی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس ملاقات کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم سے متعلق مقدمات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے قانونی حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔ وفد نے بین الاقوامی قانونی فورمز پر ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

غلام حسین محسنی نے اسرائیل پر فلسطین اور لبنان میں کئی دہائیوں سے مبینہ جرائم، قتل عام اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ان قوتوں کی حمایت جاری رکھے گا جنہیں وہ مزاحمتی تحریکیں قرار دیتا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران اپنی قوم کو پہنچنے والے مبینہ نقصانات کا ہرجانہ بھی وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار افراد کو قانونی اور مالی دونوں طرح کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ ایران ایک جانب سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب قانونی راستوں سے بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا بیان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تہران، واشنگٹن اور اسرائیل کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کے سلسلے کی تازہ کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین