ایران کی وزارت صحت کے مطابق ایران پر امریکی حملے دوبارہ شروع ہونے کے بعد 22 جون سے اب تک کم از کم 38 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت نے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ لڑائی کے انسانی اثرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 38 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
وزارت کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ 18 سال سے کم عمر کے نو بچے زخمی ہوئے، جبکہ ایک کم عمر بچہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 22 جون سے ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں اور کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
در #جنگ_تیرماه،تا ساعت ۶:۳۰صبح ۲۶ تیر،شمار مصدومین حملات آمریکا از ۴۰۰ نفر عبور و ۳۸ نفر هموطن شهید شدند؛ در میان آنان ۲۲ زن مصدوم،۳ زن شهید،۹ مصدوم زیر ۱۸ سال و یک شهید زیر ۱۸ سال دیده میشود.۴۷ نفر بستری و نیازمند دعای مردم عزیز.
سلامت، نخستین قربانی جنگ است. #تیم_سلامت #ایران— حسین کرمانپور Hossein.Kermanpour (@HKermanpour) July 17, 2026
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جاری حملوں کے باعث اسپتالوں اور امدادی اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے مزید تصادم سے بچنے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاری تنازع کے انسانی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں اگر کشیدگی کم نہ ہوئی۔ عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔