ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکی فوجی دباؤ یا طاقت کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل کا فیصلہ صرف ایران کے جائز حقوق کے احترام سے ممکن ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ ان کے مطابق ایران اپنے مفادات کے دفاع اور ہلاک ہونے والوں کا بدلہ لینے کے عزم پر قائم ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری ناکہ بندی بحال کرنے اور گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی فضائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ تاہم اردن کی فوج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حدود سے آنے والے چار میزائل مار گرائے۔ اسی دوران امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کی تصدیق کی۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 14, 2026
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، مواصلاتی مراکز، ایندھن کے ذخائر، اسلحہ گوداموں اور فضائی دفاعی نظام کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی بحریہ نے بھی ایک امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔
سفارتی محاذ پر ایران نے اقوام متحدہ کو خط ارسال کرتے ہوئے امریکہ پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدے پورے کرنے کے بجائے ایسے اقدامات جاری رکھے جنہوں نے معاہدے کو کمزور کیا اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا۔
ادھر جنوبی لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں، دھماکوں اور رہائشی عمارتوں کی تباہی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے مزید پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے پر جاری فوجی کشیدگی، سفارتی تنازعات اور سکیورٹی خدشات عالمی توانائی کی فراہمی، بحری تجارت اور خطے کے استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔