ایران نے ایران امریکا مذاکرات پاکستان ثالثی کے عمل میں امریکا پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے رویے، تضادات اور غیر معمولی مطالبات مذاکرات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا پر عدم اعتماد کے باوجود ایران نے ذمہ دارانہ انداز میں دوبارہ مذاکراتی عمل میں شرکت کی ہے اور منصفانہ حل کی کوشش جاری رکھی ہے۔
ایران کے مطابق ایران امریکا مذاکرات پاکستان ثالثی میں جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں سے متعلق اختلافات مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکا کی پالیسی میں بار بار تبدیلیوں نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
Iran’s UN mission warns that US excessive demands and obstructionism have pushed the Nuclear Non-Proliferation Treaty into "free fall,” stressing that without genuine progress on nuclear disarmament, the NPT has no future.
Follow: https://t.co/B3zXG74hnU pic.twitter.com/DdnthFcEtf
— Press TV 🔻 (@PressTV) May 23, 2026
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے رویے نے نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی کو کمزور کیا ہے اور یہ صورتحال عالمی جوہری نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں ماضی کے سفارتی ناکامیوں اور مذاکرات کے دوران پیش آنے والے فوجی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رکھا جا سکے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگرچہ ایران امریکا مذاکرات پاکستان ثالثی کا عمل جاری ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں، لیکن حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔