ایران امریکہ کشیدگی

ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ

ایران امریکہ کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے، جہاں ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے اردن میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ اس نے ایرانی حدود سے آنے والے چار میزائل فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد تباہ کر دیے۔

آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے کا مقصد اردن نہیں بلکہ وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات تھیں۔ ایران کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ اردنی عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں۔

اردن کی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے چاروں میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے اور فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام واقعے کی مزید تحقیقات اور جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی کارروائیاں مکمل کیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والا آپریشن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیا گیا، جنہوں نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا۔

اسی دوران آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی کشیدگی برقرار رہی۔ امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کرنے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز دی، جبکہ ایران نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے خود کو آبنائے ہرمز کا مستقل محافظ قرار دیا۔

علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے۔ بین الاقوامی بحری اداروں نے جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکہ کشیدگی اب مشرق وسطیٰ کے مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ جاری فوجی کارروائیاں، بحری تنازعات اور سفارتی اختلافات نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے بھی سنگین چیلنج بن رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین