عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا ہے۔ یہ بیان ہفتے کے روز بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا گیا۔ اجلاس میں مسلم ممالک کو درپیش مسائل اور علاقائی امن و سلامتی پر غور کیا جا رہا ہے۔
علی فالح الزیدی نے عراقی دارالحکومت میں اجلاس کا افتتاح کیا اور کہا کہ اسلامی دنیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق علاقائی اور عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کو مشترکہ کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ انہوں نے تعاون اور مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
عراقی وزیراعظم نے فلسطینی عوام کو انصاف اور ان کے حقوق فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ علاقائی امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔ فلسطین کا معاملہ بھی ان اہم موضوعات میں شامل ہے جن پر او آئی سی کے رکن ممالک تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں علاقائی امن و سلامتی، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلم ممالک کو درپیش چیلنجز پر گفتگو ہوگی۔ شرکا علاقائی تنازعات کے حل، باہمی تعاون میں اضافے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ایک عہدیدار کے مطابق ملکی مصروفیات اور دیگر اہم امور کے باعث وہ بغداد نہیں جا سکیں گے۔ ان کی جگہ جدہ میں او آئی سی کے لیے پاکستان کے مستقل نمائندے فواد شیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس میں شرکت کے لیے بغداد پہنچ چکے ہیں۔ ترکیہ، مصر اور دیگر مسلم ممالک کے حکام بھی اس اجتماع میں شریک ہیں۔ ان کی شرکت ایسے وقت میں اہم ہے جب خطے میں سلامتی کے خدشات اور سیاسی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
عراق کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہنا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اجلاس میں رکن ممالک سفارتی حل، باہمی رابطوں اور مذاکرات کے فروغ پر غور کریں گے۔ اس کے علاوہ مشترکہ مسائل سے نمٹنے اور اسلامی دنیا میں امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔