ایران کے پاسداران انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران پیش آیا، جس کے باعث اہم بحری راستے میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز آئل ٹینکر حادثے نے بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ آئل ٹینکر دو ملین بیرل سے زیادہ خام تیل لے جا رہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز نے غیر قانونی طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی اور بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم، بیان میں واقعے کی درست جگہ نہیں بتائی گئی۔
پاسداران انقلاب نے الزام لگایا کہ ٹینکر نے امریکی حمایت کے ساتھ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کی اور اس دوران اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے۔ انہوں نے رات کے وقت آگ میں گھرے ایک جہاز کی ویڈیو بھی جاری کی۔ تاہم، بیان میں جہاز کی شناخت یا واقعے کے تمام حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
آبنائے ہرمز کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان واقع ہے۔ اپنے تنگ ترین مقام پر اس آبی راستے کی چوڑائی تقریباً 30 کلومیٹر ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر دیا۔ تہران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت لینا ضروری قرار دیا ہے۔ ان پابندیوں سے بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی عالمی ترسیل کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر پابندیوں کے جواب میں امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے اقدامات نے خطے میں بحری تجارت سے متعلق کشیدگی بڑھا دی ہے۔ اس اہم راستے پر مزید رکاوٹیں عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل علی اوزمی نے رواں ہفتے خبردار کیا تھا کہ نیویگیشن سسٹم بند کرنے والے جہازوں کو دشمن تصور کیا جائے گا۔ تازہ واقعے نے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں جہاز کی شناخت اور نقصان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔