امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا خطے میں پیش آنے والے واقعات اور سامنے آنے والی تصاویر پر شدید تشویش رکھتا ہے اور ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات چاہتا ہے۔
میری لینڈ میں ازبکستان روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو سے امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیون پر مبینہ حملے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ہیڈی لیون امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ ہیں اور اطلاعات کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملے کی کوریج کے دوران زخمی ہوئیں۔
سوال کے جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ انہوں نے حملے سے متعلق تصاویر دیکھی ہیں اور وہ اس صورت حال پر پریشان ہیں۔ ان کے مطابق امریکا نے اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کریں، جبکہ واشنگٹن اس مطالبے کو مسلسل دہراتا رہے گا۔
روبیو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر توجہ دے رہی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ہیڈی لیون سے متعلق واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے اور یروشلم میں امریکی سفارت خانے سے رپورٹ کا انتظار تھا۔
اطلاعات کے مطابق ہیڈی لیون کو فلسطینی شہریوں پر حملے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں پیش آیا، جب فلسطینی کسان اپنی فصل جمع کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد صحافیوں کے تحفظ اور ذمہ دار افراد کے احتساب سے متعلق مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر بارہا واضح کر چکے ہیں کہ وہ مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھتے یا کسی نئے بحران کو جنم لیتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق خطے میں مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے تشدد کی روک تھام اہم ہے۔