ٹرمپ کے قتل پر انعام کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے عراقی مسلح گروہوں کے اتحاد اسلامک ریزسٹنس اِن عراق نے مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل پر 10 ملین ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گروپ کا کہنا ہے کہ اعلان کردہ رقم اس کے ارکان اور حامیوں کے عطیات سے جمع کی گئی ہے۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد یا آزاد ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث اس اعلان کی حقیقت کی تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 میں بغداد کے قریب امریکی ڈرون حملے کا حوالہ دیا۔ اس حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس ہلاک ہوئے تھے، اور ٹرمپ نے اس کارروائی میں اپنے کردار کا ذکر کیا۔
اسلامک ریزسٹنس اِن عراق ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح تنظیموں کا ایک اتحاد ہے، جس میں کئی مختلف گروہ شامل ہیں۔ امریکی حکام ماضی میں ان گروہوں پر عراق، شام اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مراکز اور دیگر مفادات کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران متعدد مواقع پر ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔
امریکی حکام اس سے قبل بھی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران سے وابستہ عناصر نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن تہران نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تازہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی اور سکیورٹی سطح پر تناؤ برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، تاہم صورتحال کا درست اندازہ آئندہ سرکاری ردعمل اور آزاد ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔