نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعے کو اسلام آباد سے ترکیہ کے شہر استنبول روانہ ہوئے، جہاں وہ اسحاق ڈار R4+E3 اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ علاقائی سلامتی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پہلے اجلاس میں R4 گروپ کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے، جس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر شامل ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق شرکا اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کریں گے۔ اس موقع پر مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارتی تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
R4 اجلاس کے بعد پہلی مرتبہ R4+E3 فارمیٹ میں ساتوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اجلاس ہوگا۔ E3 گروپ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے سفارتی معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام پر رابطہ کاری کرتے رہے ہیں۔ نئے فارمیٹ کا مقصد ان ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں فلسطین کی صورتحال، یمن میں پیش رفت، سمندری سلامتی اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر گفتگو متوقع ہے۔ شرکا علاقائی تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے اور سفارتی اقدامات کے ذریعے امن و استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیں گے۔
🔊 PR No. 3️⃣0️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar’s @MIshaqDar50 Participation in the R4 and R4+E3 Foreign Ministers’ Meetings, Istanbul, Türkiye (23 October 2026)
🔗⬇️ https://t.co/CYIgVZqpUo
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 23, 2026
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ یہ ملاقات انقرہ کی پر منعقد ہو رہی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق، ساتوں ممالک عملی تعاون کے امکانات تلاش کریں گے۔ فیدان علاقائی سلامتی کے لیے خطے کے ممالک کی ذمہ داری اور تنازعات کو وسیع تر عدم استحکام میں تبدیل ہونے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیں گے۔
اجلاس میں بحیرہ اسود کی سلامتی بھی زیر بحث آئے گی، جہاں روس یوکرین جنگ کے دوران تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ترکیہ اس سے قبل روس اور یوکرین کو حملے روکنے کے لیے تجاویز دے چکا ہے۔ نیٹو نے بھی خطے کی نگرانی اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کے لیے اضافی طیارے، ڈرونز اور ریڈار نظام تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دورے کے دوران اسحاق ڈار کی اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اسحاق ڈار R4+E3 اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شریک ممالک علاقائی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان معاملات میں فلسطین، سعودی عرب کی سلامتی اور آبنائے ہرمز سمیت باب المندب میں بحری آمدورفت کی آزادی شامل ہیں۔ اجلاس میں علاقائی استحکام کے لیے ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔