نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے افغان طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے دہشت گردی کو پاکستان، خطے اور عالمی برادری کے لیے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ سے ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا اور پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام صوبوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان افغان حکام سے مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے اس معاملے پر بات چیت کے لیے کیے گئے سفارتی رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس ہوا تھا، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر افغان حکام اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے۔
انہوں نے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد پار سے دراندازی کے نتیجے میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ افغان سرزمین پر تیار کیا گیا تھا۔
وزیر خارجہ نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو اسلحہ اور دیگر مدد فراہم کرنے کا سلسلہ فوری بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات ختم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت نے صوبوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد عزم استحکام کے اقدام کی منظوری دی تھی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اپنی کارروائیوں سے عالمی برادری کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ انہوں نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا اور کلبھوشن یادیو کے معاملے کا حوالہ دیا۔ یہ الزامات پاکستان کے علاقائی سلامتی سے متعلق مؤقف کا حصہ ہیں۔