امریکا کی جانب سے بھارت پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے باوجود روس نے بھارت کو تیل کی فروخت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
بھارت میں تعینات روسی سفیر ڈینس الیپوف نے امریکی ٹیرف سے متعلق مجوزہ اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور تجارتی محصولات عائد کرنے والے ممالک نے تعاون کے بجائے دباؤ ڈالنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک بھارت کو روسی تیل کے مقابلے میں بہتر پیشکش دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
روسی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر روسی تیل کی عالمی منڈی میں فروخت محدود یا روک دی گئی تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی کی منڈیاں روسی تیل کی فراہمی میں کسی بڑے خلل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بوجھ آسانی سے برداشت نہیں کر سکتیں۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران کے ممکنہ طور پر مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بننے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ لاوروف کے مطابق خطے میں مزید ممالک کی شمولیت سے اس مجوزہ اتحاد کو وسعت مل سکتی ہے اور علاقائی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر بھی مکہ معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق ایسا اقدام روس کی جانب سے پیش کیے گئے تصور کو عملی شکل دینے کی سمت میں ایک اہم اور عملی قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
روس اور بھارت کے درمیان تیل کی تجارت کا معاملہ ایک ایسے وقت میں عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جب امریکا نئی دہلی پر روسی خام تیل کی خریداری محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خبردار کیا تھا کہ روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کی صورت میں بھارت کو بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی دباؤ کے بعد بھارتی کمپنیوں کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے یا کم کرنے کے فیصلے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم روس نے اب واضح کردیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ توانائی کا تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔