اسرائیل کی مغربی کنارے کی سڑکوں کا منصوبہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا جب اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کو ملانے والی سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کے لیے ایک ارب شیکل، یعنی تقریباً 334 ملین ڈالر کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فنڈنگ نئی سڑکوں کی تعمیر اور موجودہ شاہراہوں کی اپ گریڈیشن پر خرچ کی جائے گی تاکہ سکیورٹی کابینہ سے منظور شدہ متعدد اسرائیلی بستیوں کو بہتر انداز میں آپس میں جوڑا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل المدتی انفراسٹرکچر منصوبے کا حصہ ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اس فیصلے کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف اسٹریٹجک مقامات پر مزید کئی نئی بستیاں قائم کرنے میں سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
اسرائیل کی مغربی کنارے کی سڑکوں کا منصوبہ موجودہ سڑکوں کی توسیع، بستیوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے اور اضافی حفاظتی اقدامات پر بھی مشتمل ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے سفری سہولیات اور علاقائی روابط میں بہتری آئے گی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ مقبوضہ مغربی کنارہ، بشمول مشرقی یروشلم، کو فلسطینی مقبوضہ علاقہ قرار دیتی ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت وہاں قائم اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتی ہے۔
مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اسرائیل اور فلسطین تنازع کے سب سے متنازع معاملات میں شمار ہوتی ہے۔ متعدد ممالک اور عالمی ادارے اس عمل کو دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیل مختلف مواقع پر ان منصوبوں کو اپنی قومی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ قرار دیتا رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مبصرین کے مطابق بستیوں سے متعلق نئے اقدامات مستقبل میں سفارتی سطح پر مزید بحث کا باعث بن سکتے ہیں۔