جے ڈی وینس ایران مذاکرات کے معاملے پر ایک نئے سیاسی تنازع کا باعث بن گئے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر تہران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایک طویل انٹرویو میں کہی۔
وینس کے مطابق بعض اسرائیلی شخصیات امریکی عوام کی رائے پر اثرانداز ہو کر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف میڈیا لیکس اور سوشل میڈیا مہم بھی اسی مقصد کے تحت چلائی گئی۔
اپنی گفتگو میں وینس نے ان افراد کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایسے عناصر کی پروا کیے بغیر امریکی مفاد میں کام جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکی حکومت کے اندر سے تنقید پر اعتراض نہیں، لیکن بیرونی اثر و رسوخ امریکی فیصلوں پر غالب نہیں آنا چاہیے۔
جے ڈی وینس ایران مذاکرات سے متعلق یہ بیان اب تک اسرائیلی حکام پر ان کی سخت ترین عوامی تنقید تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ امریکی سفارتی کوششوں پر اسرائیلی وزرا کی تنقید کو نامناسب قرار دے چکے ہیں۔
انٹرویو کے دوران وینس نے جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اس معاملے پر مؤثر انداز میں عوامی رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہا، تاہم کسی معلومات کو جان بوجھ کر چھپانے کی تردید کی۔
وینس نے مزید دعویٰ کیا کہ جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہو سکی ہے۔
اس انٹرویو کے بعد امریکہ، اسرائیل اور ایران سے متعلق سفارتی بحث میں مزید شدت آ گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔