H-1B ویزا فراڈ تحقیقات کے حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد باصلاحیت غیر ملکی ماہرین کو قانونی طور پر امریکا میں کام کا موقع فراہم کرنا تھا، لیکن اس کے مبینہ غلط استعمال سے امریکی کارکنوں کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ملازمتیں امریکی شہریوں کے لیے ہیں، نہ کہ ویزا نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے لیے۔
وسکونسن کے شہر ملواکی میں وسکونسن ایئر نیشنل گارڈ کے 128ویں ایئر ری فیولنگ ونگ بیس کے دورے کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ H-1B ویزا پروگرام کو غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے سائنس دانوں، انجینئرز، ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین کو امریکہ میں قانونی ملازمت کا موقع دینے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بڑی کمپنیاں اور کچھ غیر ملکی عناصر اس پروگرام کا مبینہ طور پر غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل سے امریکی کارکنوں کی اجرتوں اور روزگار کے مواقع پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق H-1B ورک ویزا پروگرام ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی فراڈ تحقیقات میں شامل ہو چکا ہے۔ جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکی محکمۂ محنت متعدد افراد اور اداروں کو سمن جاری کر چکا ہے اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ فراڈ ٹاسک فورس ٹیکس دہندگان کے پیسے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنا رہی ہے کہ روزگار سے متعلق ویزا پروگراموں کا ناجائز استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق حکام مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہیں۔
جے ڈی وینس نے خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص H-1B ویزا پروگرام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا تو اسے امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پروگرام کو اس کے اصل مقصد کے مطابق چلانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بیانات ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر امیگریشن اور لیبر پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت روزگار سے متعلق ویزا پروگراموں کی نگرانی سخت کرنے اور امریکی کارکنوں کے روزگار کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ ادارے مختلف الزامات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔