خیبرپختونخوا بارشوں سے اموات کی تعداد 20 ہو گئی ہے جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 19 جولائی سے جاری شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ 23 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں سات مرد، آٹھ بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔ شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث 30 مکانات متاثر ہوئے جن میں 23 کو جزوی جبکہ سات کو مکمل نقصان پہنچا۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل رہے۔ شمالی وزیرستان میں دریائے ٹوچی میں لکڑیاں جمع کرتے ہوئے دو افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن کی لاشیں بعد میں ریسکیو 1122 نے نکال لیں۔ بالائی جنوبی وزیرستان میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوگئے۔
زیریں جنوبی وزیرستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا۔ مقامی افراد نے حکومت سے حفاظتی پشتے تعمیر کرنے اور سیلاب سے بچاؤ کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
پشاور میں بارش کا پانی نصیراللہ بابر ٹیچنگ اسپتال کے خواتین وارڈ میں داخل ہوگیا جبکہ نوشہرہ کے گورنمنٹ پرائمری اسکول نمبر 2 تارو جبہ میں بھی سیلابی پانی داخل ہونے سے عمارت کی حفاظت پر خدشات پیدا ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہنے اور سرکاری موسمی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات تک مزید شدید بارشوں، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا بھی امکان ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں خیبرپختونخوا بارشوں سے اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔