شمالی کوریا کی فوج

شمالی کوریا کا مسلح افواج کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے فوجی کمانڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنانے کے لیے تربیت دیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، انہوں نے پیانگ یانگ میں کمپنی کمانڈروں کے دو روزہ اجلاس کے دوران یہ ہدایت دی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غیر فوجی علاقے میں دھماکے کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ اجلاس جمعرات اور جمعے کو منعقد ہوا۔ کم جونگ اُن نے فوج میں ایسی تبدیلیوں پر زور دیا جنہیں انہوں نے کوریائی طرز کا فوجی انقلاب قرار دیا۔ انہوں نے فوجی کمپنیوں کو تربیت اور تکنیکی صلاحیتوں کے لحاظ سے مضبوط اور بہترین یونٹس بنانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو مؤثر جنگی کارروائیوں کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق، فروری میں حکمران جماعت کی کانگریس کے بعد یہ پوری فوج سے متعلق پہلا اجتماع تھا۔ اس کانگریس میں کم جونگ اُن نے روایتی فوجی صلاحیتیں مضبوط بنانے اور جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔ تازہ اجلاس میں بھی فوجی تربیت، جدید آلات اور جنگی تیاری کو اہمیت دی گئی۔

شمالی کوریا نے حالیہ عرصے میں کئی ہتھیاروں کے تجربات بھی کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں ایک نیا ہدف کو درست نشانہ بنانے والا تارپیڈو نظام اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ہائپرسونک میزائل شامل ہیں۔ سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ دونوں نظاموں میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ اقوام متحدہ کی طویل عرصے سے عائد پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

شمالی کوریا نے 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، پیانگ یانگ نے روس کی جنگی کوششوں میں مدد کے لیے فوجی اہلکار بھیجے ہیں۔ اس تعاون کے بدلے شمالی کوریا کو معاشی فوائد اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب، جنوبی کوریا نے جمعے کو شمالی کوریا کے ساتھ فوجی مذاکرات کی تجویز پیش کی۔ اس کا مقصد سرحدی صورتحال واضح کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کرنا ہے۔ یہ تجویز غیر فوجی علاقے میں دھماکے کے بعد سامنے آئی، جس میں جنوبی کوریا کے فوجی زخمی ہوئے تھے۔ سیئول نے اس واقعے کا الزام شمالی کوریا کی بارودی سرنگوں پر لگایا، تاہم پیانگ یانگ نے اس الزام کو مسترد کردیا۔

شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں، کیونکہ 1950 سے 1953 کی جنگ باضابطہ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی تازہ مذاکراتی تجویز کا جواب نہیں دیا تھا۔ ایسے حالات میں کم جونگ اُن کا فوجی طاقت بڑھانے پر زور دینا دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی اور خطے میں سلامتی کے چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین