نوبی کوریا کے فوجی آپشنز

جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز کیلئے فوجی آپشنز پر غور

جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے کیلئے فوجی آپشنز سمیت مختلف اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی فوجی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوا۔

جنوبی کوریا کے کئی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت سال کے اختتام سے پہلے فوجی اثاثے بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ پارلیمنٹ سے رواں ماہ منظوری لی جا سکتی ہے۔ صدارتی دفتر نے حتمی فیصلے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

حکام کے مطابق جنوبی کوریا کے فوجی آپشنز میں بحری گشت کرنے والا طیارہ، رسد فراہم کرنے والا بحری جہاز یا سمندری بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور صفائی کرنے والا یونٹ شامل ہو سکتا ہے۔ سیول نے امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک سے بھی ممکنہ تعاون پر بات کی ہے۔

صدارتی دفتر کے مطابق کسی بھی فیصلے میں ملکی قانونی تقاضوں، جزیرہ نما کوریا میں فوجی تیاری اور پارلیمانی منظوری کو مدنظر رکھا جائے گا۔ صدر لی جے میونگ اگلے ہفتے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ممکنہ محدود تعیناتی واشنگٹن کے ساتھ جنوبی کوریا کے تعلقات کیلئے بھی اہم ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے سیول اپنے اتحادی کردار کا اظہار کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود مشن کا مقصد ایران کے خلاف براہ راست جنگی کارروائی میں شامل ہونا نہیں ہوگا۔

جنوبی کوریا کے قانون کے تحت بیرون ملک فوجی تعیناتی کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔ عوامی رائے بھی حکومت کیلئے اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ مارچ میں گیلپ کوریا کے سروے میں 55 فیصد افراد نے آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کی مخالفت کی، جبکہ 30 فیصد نے حمایت کی۔

آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کی توانائی ضروریات کیلئے انتہائی اہم ہے۔ گزشتہ سال جنوبی کوریا کی خام تیل درآمدات کا 61 فیصد اور نیفتھا درآمدات کا 54 فیصد اسی راستے سے آیا۔ اس لیے کسی بھی ممکنہ تعیناتی کے معاشی اور تزویراتی اثرات اہم ہوں گے۔

=

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین